نيا صوبہ اور جھنگ کا مستقبل ۔۔!!۔

ضلع جھنگ جغرافیائی لحاظ سے پنجاب کا وسطی ضلع ہے۔ کچھ دہائیوں قبل تک  بہت سے دیگر علاقے بھی اس ضلع میں شامل تھے جو اب علیحدہ اضلاع بن چکے  ہیں۔  جنوبی صوبہ محاذ میں ملتان بہالپور کےچند ایم  این اے / ایم پی اے کی شموليت کے بعد اہل جھنگ اپنے مستقبل کے بارے میں کافی فکر مند نظر آتے ہیں۔ اہلیان جھنگ کے لیے نئی  مشکل اورفکر جنوبی پنجاب صوبہ بننے کی صورت میں ،جھنگ کو کس صوبے میں ضم کئے جانے کا حکم صادر ہو گا ۔

زبان اور علاقائی روایات کے لحاظ سے ضلع جھنگ سرگودھا اور خانيوال سے خاصی مماثلت پائی جاتی ہےاورآبادی کےلحاظ سےاکثريت پنجابی زبان بولتی ہے۔،  جبکہ سرائیکی زبان جھنگ کے جنوبی علاقے  احمد پور سیال اور ملحقہ صرف چند علاقوں میں بہت کم سرائيکی بولی جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر زبان کی بنیاد پر ہے وجود میں آتا ہے تو اس کا نام سرائیکستان رکھنے کی صورت میں شاعر جھنگ کے اکثر لوگ اس صوبے میں اپنے انضمام کو فطری نہ سمجھیں۔ پر اگر یہ صوبہ انتظامی لحاظ سے جنوبی پنجاب کے نام سے بنایا جاۓ تو یقینا جھنگ کے اکثر لوگوں کے لئے دونوں صوبوں میں سے کسی ایک صوبے میں انضمام کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جھنگ کو کس صوبہ میں کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ بدقسمتی سے جھنگ کے جغرافیائی لحاظ سے درمیان میں موجود ہونے سے یہ دونوں صوبوں کےآخری علاقوں یعنی ٹیل  میں ہی تصور کیا جائے گا۔ یعنی نیا صوبہ بننے کی صورت ميں بھی جھنگ کو صوبائی دارالحکومت سے دور ہی رہنا ہوگا جس کی وجہ سے انتظامی طور پر اہلیان جھنگ وہ فائدہ یا سہولت حاصل نہ کر پائیں جو کہ صوبائی دارالحکومت کے قریبی علاقوں میں رہنے والے کر پائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ لسانی بنیادوں پر صوبہ وجود آنے کی صورت میں بھی بچے کھچے جھنگ کو،زبان اور ثقافت کو بھی مزید نقصانات درپیش ہو سکتے ہیں۔

زبان و روایات اور اقدار کے لحاظ سے ضلع سرگودھا،  جھنگ، چنيوٹ ،بھکر، ٹوبہ،  خانیوال ، اوکاڑہ و چند دیگر ملحقہ علاقے فطرتی طور پر  زیادہ مماثلت رکھتے ہیں اورہم سرائیکی بولے جانے والے علاقوں سے کافی انداز میں مختلف ہیں اور الگ شناخت ،ثقافت رکھتے ہیں۔
لہذا فل وقت نئے صوبے سے شاید ضلع جھنگ کو کوئی زیادہ فائدہ حاصل نہ ہو سکے،۔ البتہ وسطی پوزیشن ہونے کی صورت میں پنجاب کے اندر کسی وسطی صوبے کے قیام سے یقیننا جھنگ کو مرکزی حیثیت و اہمیت حاصل ہو جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاست دان پیش بینی کا ثبوت دیتے ھوئے جھنگ کو ڈویثزن بنانے اور یونیورسٹی کے قیام کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر ديں تاکہ  آنے والے دنوں میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور جغرافیائی تبدیلیوں سے جھنگ کو نقصان کے بجاۓ زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔

اس کے علاوہ ہم سب کو بروقت  موئثر حکمت عملی ترتيب دينے کا آغاز بھی جلد کر دينا چاہيے۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *