کسانوں کو باردانہ کيسے ديا جاۓ۔۔؟؟

ہمارے لیے اپنی محنت اور پسینہ سے اناج پیدا کرنے والے کسان بھائیوں کی حالت زار دیکھ کر نہایت افسوس ہوتا ہے ۔ یہ کسان بھائی اپنی شب و روز محنت سے ملک و قوم کے لئے معشیت میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ یہ کسان بھائی ہماری جی ڈی پی معاشی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں۔ مگر۔۔۔۔۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طبقے کو ریلیف فراہم اور تعاون کرنے کے بجائے کسانوں کے ساتھ مسلسل زیادتی کی جا رہی ہے۔ کبھی ان سے گنا خرید  نہیں کیا جاتا ،  گنا وصول کرلیا جائے تو ان کو ادائیگی نہیں کی جاتی۔ اس کے علاوہ یہ کسان بھائی اب ہر فصل کی تیاری پر نہ صرف ذلیل ہوتے ہیں بلکہ ان کے معاشی استحصال کے ساتھ ساتھ ان کی خود داری کو بھی امتحان میں ڈالا جاتا ہے۔ گندم کی کٹائی کے وقت باردانہ فراہم نہ کرنا ان کو قطاروں میں کھڑا کرنا رشوت وصول کرنا، با قاعدہ سہولیات فراہم نہ کرنا انکی کسانوں کو معاشی طور پر بری طرح سے برباد کررہا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں ہم زراعت کو ترقی اور کسان کو ریلیف دیے بغیر کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مردم شماری اور نادرہ کی سہولت حاصل کرکے ان کسانوں کو گھر کے پتہ پر ایک ای ڈی جاری کرکے رقبہ کے لحاظ سے باردانہ بروقت گھروں میں ہی مہیا کر دیا جائے۔ جبکہ اس کی مونیٹرنگ بہت سارے دیگر طریقوں سے بھی کی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ہوگا بلکہ باردانہ کی وصولی و دیگر مسائل بھی آسانی سے حل ہو سکیں گے۔ ہمیں اپنے زراعت پیشہ بھائیوں کو عزت دینی ہے اور کوئی بھی چیز جو ان کے وقار کو مجروح کرتی ہوں یقینا اس کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا حکومت کو نئی مردم شماری کے مطابق اور نادرہ کے ريکارڈ  سے  مدد لے کر، کسانوں کو لاٹھياں مارنے کے بجاۓ ، رقبہ کے لحاظ سے اجناس و گندم کا باردانہ بروقت  کسان کے گھر کے پتے پر فراہم کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ تجویز اگر بہتر لگتی ہو تو آپ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ ہم حکومتی نمائندگان تک اپنی یہ گزارش یا در خواست پہنچا سکیں۔
ہمارا کسان زندہ آباد۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

تحرير و تجويز

آصف شير سيال

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *