يو نيورسٹی آف جھنگ کتنی اہم

ضلع جھنگ کا شمار پاکستان کے قدیم ترین اضلاع میں ہوتا ہے۔ جب کہ رقبے کے لحاظ سے بھی یہ ضلع پنجاب کے بڑے ترین اضلاع میں شامل تھا۔ جغرافیائی خدوخال کے لحاظ سے بھی یہ پنجاب کا وسطی ضلع اہم ترین جگہ پر موجود ہے، پر حالات کی ستم ظریفی کے آج تک اس ضلع کے بنیادی مسائل کا حل تو دور کی بات ہے ، آج تک اس کثیر آبادی کے ضلع کو صحت، تعلیم اور دوسری بنیادی سہولیات بھی فراہم نہ کی جاسکی ہیں۔ ٹوبہ، فیصل آباد اور چنیوٹ وغیرہ بھی کبھی اسی ضلع کے حصہ ہوتےتھے۔

بد قسمتی کی یہ داستان یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اب تک اس ضلع کے لیے کسی بھی قسم کا میگاپروجیکٹ نہیں دیاجا سکا یا لیا نہیں جاسکا اصولا تو اس ضلع کو اب تک ڈويثرن کا درجہ دے دیا جانا تھا پر حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جھنگ کو اب اپنے ضلع کا درجہ برقرار رکھنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ اس پسماندہ اور بڑے ضلع کو آج نہ صرف اچھے بڑے ڈویثرنل ہسپتال کی ضرورت ہے بلکہ ایک مکمل بڑی جامعہ یونیورسٹی کی بھی ضرورت ہے۔ اس علاقے کے ساتھ پچھلی کئی دہائیوں میں تو زیادتی ہوتی رہی ہے، پر اب اس علاقے کے احساس محرومی کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہاں پر سہولیات کی فراہمی ہی ہے۔

اس علاقے میں یونیورسٹی اف جھنگ بھی منظور کی گئی، جس کی گرانٹ اور فنڈز بھی یہاں پر مقامی طور پر منتقل کر دیے گئے ہیں ۔ پر بصد افسوس یہاں کے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی ذہنیت اورسوچ کا کہ وہ یہاں کے مقامی لوگوں کو جلد تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے صرف کریڈٹ حاصل کرنے پر ہی غور فرما رہے ہیں۔ شاید یہ بات انکے علم میں نہیں ہے کہ نئی موٹرویز اور رستے بننے کے ساتھ ساتھ ابلاغ کے بہتر ہونے سے اگر وہ بروقت جامعہ نہ بنا سکے تو یہ ضلع اور بہت  پیچھے رہ جائے گا۔ اور اہل ثروت لوگوں کی تمام تر جائیدادیں مال پیسہ سب بے  وقعت ہو جائے گا۔

یہی نہیں بلکہ شاید وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضلع اور سمیٹا تو یہاں پر موجود صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹوں سے بھی ہمارے رسمی سیاستدان  ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس سال بھی قومی اور صوبائی سطح پر سیٹوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تو براہ راست یا بالواسطہ طور پر بھی انہی لوگوں کو زیادہ نقصان ہوگا۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست دان لعيت ولعل و کریڈٹ لینے کے بجائے عملی طور پر جامعہ کے فوری قیام کو ممکن بنائیں۔

اس کے علاوہ آپ کو اس جامعہ میں ایک کل وقتی اچھے   انتظامی وا ئس چانسلر کی خدمات فوری درکار ہے جو ہنگامی بنیادوں پر میڈیکل، اینجینیرنگ، لا ، فارمیسی اور دیگر اداروں کے آغاز کیلئے ہنگامی طور پر کام کا آغاز کررے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *