کاروبار سے پہلے تربيت

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کے دور میں کوئی بھی ملک اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت فراہم کیے بغیر دوسرے ملکوں سے مقابلہ اور سبقت لینے کو ممکن نہیں کرسکتا۔
سرکاری اور نجی سطح پر اس شعبے میں بہت سا کام ہوتا رہا ہے۔ سرکاری طورپر وکیشنل اور ٹیوٹا ادارے طلبہ و طالبات کو بغیر کسی فیس کے کورسز کروا رہے پر بدقسمتی سے یہ طلباوطالبات کورسز کرنے کے بعد نيا کاروبار یا مزید آگے کوئی چھوٹا موٹا اپنا کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
یہں نہیں بلکہ یونیورسٹیوں میں بھی پروفیشنل تعلیم دینے کے بعد بھی طلباوطالبات کوئی عملی کاروبار یا کام کا آغاز نہیں کر پاتے۔
طلبہ و طالبات کو ٹریننگ کورسز کروانے کے بعد مکمل نيا کام کرنے کے آغاز کی رہنمائی کے بجائے ان کے کام کرنے  کو مغاوضہ ادائيگی کۓ بعدادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کو درست مینجمنٹ کیساتھ کاروبار شروع کرنے کے لیےترجیحات، چیلنجز اور دوسری تیاری رسک مینجمنٹ کے بارے میں بالکل آگاہی نہیں دی جاتی۔
ان کو کاروبار چلنے کے بعد  ترقی کے مواقع  بارے میں بھی زیادہ موٹیوشن نہیں دی جاتی۔ جس کی وجہ سے وہ کاروبار کے لیے ملنے والی رقم کو غنیمت جانتے ہیں۔ اور اسی رقم سے نیا کاروبار اور نئے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے اسی سے اپنی پرانی ضروریات یا چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنا شروع کردیتے ہیں .ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کو کاروبار میں ہونے والی ترقی اوردنیا میں ہونے والے معجزوں کے بارے میں تربیت دی جائے۔
کوشش کروانے اور کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے کے لیے معاوضہ فراہم کرنے سے پہلے طلبہ طالبات کو ممکنہ کاروباری ترقی اور اس میں آنے والے چیلنجز کے بارے میں باقاعدہ ٹریننگ و آگہی فرام کرنا نہایت ضروری ہے۔
پاکستان کو معاشی چیلنجز سے لڑنے کے لیے اس وقت انٹرپرینورشپ یا نئے کاروبار شروع کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ملکی ترقی کا کیا اب صرف نے کاروبار اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے سے ہی چل سکتا ہے۔
سرکاری ادارے اور وکیشنل ادارے اپنے تئی اور وسائل کے مطابق اچھا کام کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کورسس کروانے کے بعد طلباوطالبات کو کاروبار کیلئے معاوضے کی فراہمی سے پہلے باقاعدہ ٹریننگ اور میلان اور چیلنجز کو سکھایا جائے۔ تاکہ یہ نوجوان عملی طور پر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے تعلیم اور ہمارا ملک اس دنیا کے نقشے پر عظیم معاشی قوت بن کر ابھرے اور ہم کسی کو کشکول لے جا کر امداد کےلئے نہ کہیں۔ اے اللہ ہمارے ملک کو ایک عظیم اسلامی ایٹمی قوت کے بعد معاشی قوت بھی بنا دے ۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *